کسی کو پاؤں کی جوتی، کسی کو سر پر بٹھا لیتے ہیں
یہ دنیا ایسی ہی ہے صاحب، یہاں لوگ چہرے بدل لیتے ہیں
سچائی کی قیمت یہاں کوئی نہیں پوچھتا، جھوٹ سے مطلب
بس دکھاوے اور فریب کو سب سے بڑا ہنر بنا لیتے ہیں
ساتھ وہاں تک، مطلب جہاں تک تو سنا ہی ہوگا آپ نے
یہ وہ حقیقت ہے جس سے لوگ اکثر نظریں چھپا لیتے ہیں
آستین کے سانپوں کی کچھ نشانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو
تیرے منہ پہ تیرے اور میرے منہ پہ پیٹھ پیچھے خنجر گھونپ دیتے ہیں
کچھ لوگ رنگ ایسے بدلتے ہیں جیسے گرگٹ کے رشتہ دار ہوں
بات وفاداری کی کرتے ہیں اور مشکل میں منہ موڑ لیتے ہیں
یہ دنیا ایسی چیز ہے جسے کبھی جیتا نہیں جا سکتا
یہاں ہر چہرے پہ ایک نقاب ہے، جو کبھی بھی پہن لیتے ہیں
WRITE BY ZISHAN ALAM
BOOK-LAFZON KE MOUSAM ME