میری زندگی کی واحد کمائی تھا وہ
مجھے اکیلا کرکے کیوں چلا گیا وہ
ابھی تو اُس نے چلنا بھی نہیں سیکھا تھا
دنیا میں آیا اور چلا گیا وہ
میرا غم ایک پہاڑ کے مانند ہے لوگوں
میرے آنسوؤں کو بھی دھوکا دے گیا وہ
میرے زخموں کا علاج بھی نہیں ہے اب
کیونکہ اپنے ساتھ دوا بھی لے گیا وہ
میرے گھر میں اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا ہے
میرے آنگن کی جلتی روشنی لے گیا وہ
کس سے گلہ کروں، کس سے شکوہ کروں میں
میرے ہونٹوں کی مسکان، میری جان لے گیا وہ
یہ محل اب میرے کسی کام کا نہیں رہا
بادشاہ تو دو گز زمین میں سو گیا وہ
ساری زندگی کی کمائی دفن کر آیا ہوں میں
اب میرے پاس کچھ نہیں بچا، سب لے گیا وہ
WRITE BY - ZISHAN ALAM
BOOK-LAFZON KE MOUSAM ME