تنہا محل urdu poetry by zishan alam

 


میری زندگی کی واحد کمائی تھا وہ
مجھے اکیلا کرکے کیوں چلا گیا وہ

ابھی تو اُس نے چلنا بھی نہیں سیکھا تھا
دنیا میں آیا اور چلا گیا وہ

میرا غم ایک پہاڑ کے مانند ہے لوگوں
میرے آنسوؤں کو بھی دھوکا دے گیا وہ

میرے زخموں کا علاج بھی نہیں ہے اب
کیونکہ اپنے ساتھ دوا بھی لے گیا وہ

میرے گھر میں اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا ہے
میرے آنگن کی جلتی روشنی لے گیا وہ

کس سے گلہ کروں، کس سے شکوہ کروں میں
میرے ہونٹوں کی مسکان، میری جان لے گیا وہ

یہ محل اب میرے کسی کام کا نہیں رہا
بادشاہ تو دو گز زمین میں سو گیا وہ

ساری زندگی کی کمائی دفن کر آیا ہوں میں
اب میرے پاس کچھ نہیں بچا، سب لے گیا وہ

WRITE BY - ZISHAN ALAM

BOOK-LAFZON KE MOUSAM ME




The zishan's view

This is zishan alam .Writer .Poet.and Author of Lafzon ke mousam me .Social Activist.मुस्लिम का बेटा हूं हिंदू का भाई हूं लेकिन दीवाना हूं इंसानियत का //

एक टिप्पणी भेजें

और नया पुराने