بے شک حکومت بھی تیری
قلم بھی تیرے، اخبار بھی تیرے
عدالت بھی تیری، گواہ بھی تیرے
ثبوت بھی تیرے، سب کے سب تیرے
میرا یہاں کیا ہے؟
تیری عدالت میں تنہا کھڑا ہوں میں
تیری نظروں سے ہی فیصلہ ہوگا
میرا گناہ کیا ہے؟
بس اتنا ہے کہ میں ہوں
میرا وجود تیری آنکھوں میں کھٹکتا ہے
میری بے باکی سے ڈرتا ہے
میری بے باک آواز تجھے پسند نہیں
میرے سوالوں سے تجھے تکلیف ہوتی ہے
میری بے خوفی کو تُو میرا گناہ سمجھتا ہے
تیری حکومت کے آگے میں بے بس نہیں ہوں
میں بے باک ہوں، میں بے خوف ہوں
کیونکہ میں ہوں
Write by zishan alam
book