یوں در بدر کب تک رہوں، سوچا کہیں آباد ہو جاؤں
یا پھر سے تمہیں یاد کرتا رہوں اور میں برباد ہو جاؤں
بہت بھاگتا رہا ہوں تمہارے پیچھے، تمہاری یادوں کے پیچھے
تم پاس نہ آئے، سوچا اب میں ایک جگہ ٹھہر جاؤں
میں تو رات بھر جاگا ہوا تھا، آنکھوں میں خواب کہاں تھے
گر خواب حقیقت ہوتے ہیں، تو میں تھوڑا سا سو جاؤں
میں تو خود کو سمیٹنے یوں اُس محفل میں چلا گیا تھا
مجھے نہیں معلوم یہ محفل تمہاری ہے، تھوڑا رک جاؤں
بہت گیت غزلیں سنی ہیں میں نے یہاں تمہاری تبسم پہ
سوچ رہا ہوں تھوڑا سا ٹھہر جاؤں یا یہاں سے چلا جاؤں
تمہارے بغیر اب یہ شہر سُونا سُونا سا لگتا ہے یہاں
کیا تمہیں یاد کروں میں اور تمہاری یادوں میں اُلجھ جاؤں
WRITE BY - ZISHAN ALAM
BOOK LAFZON KE MOUSAM ME