مجھ دھار میں پھنسا ہوں، میری کشتی کو کنارے لگا دے مولا
ہر طرف اندھیرا ہے، مجھے کوئی راستہ تو دکھا دے مولا
غم کے طوفانوں میں ایک معصوم امید لگائے ہوئے بیٹھا ہوں
میری اس معصوم امید کو مایوسی میں نہ بدلنا مولا
اس زمیں پر تنہا کھڑا ہوں، آسماں والے کو دیکھ رہا ہوں
ایک تو ہی تو میرا ہے، زمیں والے تو منہ موڑ جاتے ہیں مولا
میں اپنا سب کچھ لٹا بیٹھا ہوں، گھِر گیا آزمائش میں
اس آزمائش کو میرا امتحان نہ بنا دینا یا مولا
تو سب کچھ سن رہا ہے، اور میرے حالات کو دیکھ رہا ہے
اب تو ہی بتا دے، تیرے سوا کوئی نہیں ہے میرا مولا
تو نے مجھے جو نعمتیں بخشی ہیں، ہر حال میں شکر گزار ہوں تیرا
تو نے مجھے اس قابل بنا دیا، خود سے چل رہا ہوں مولا
write by zishan alam
book lafzon ke mousam me