میں تو مسافر ہوں، یہاں تھوڑی دیر چل جاؤں گا
یہاں کے حالات دیکھ کر، میں تھوڑا ٹھہر جاؤں گا
کب، کہاں، کون سی منزل ہوگی میری، پتا نہیں
جاتے جاتے فضاؤں میں خوشبو چھوڑ جاؤں گا
شکاری نے اپنا جال پھیلایا اور بیٹھ گیا
مگر میں آج اُن پرندوں کو بچا کر جاؤں گا
اُس درخت کی ٹہنی پہ کچھ پرندے بھوکے بیٹھے ہیں
مجھے لگتا ہے، میں اُن کو دانہ بکھیر کر جاؤں گا
میری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں، میں کچھ کروں یہاں
مسافر ہوں تو کیا ہوا، میں یادیں چھوڑ جاؤں گا
میری زندگی تو یوں ہی بسر ہو جائے گی سفر میں
لیکن میں اپنے حصے کی روشنی پھیلا جاؤں گا
https://thezishansview.blogspot.com/
write by zishan alam
book lafzon ke mousam me