گرمی کی تپتی دھوپ ہوں میں،
سردی کی چاندنی رات ہوں۔
دن کا سورج ہوں،
نہ نکلوں تو گھر کا اندھیرا ہوں،
جو بھی ہوں، اپنے آپ ہوں—
کیونکہ میں ایک باپ ہوں۔
کبھی گرم، کبھی ٹھنڈا،
کبھی ہنستا، کبھی چپ رہتا،
میں بھی خدا کا ایک بندہ ہوں۔
اپنے بچوں کی خوشیوں کا میں سایہ ہوں،
دن بھر کی تھکان میرے کندھوں پر بھاری ہے۔
خواہشوں کے اس انجانے موسم میں،
میں ننگے پاؤں کھڑا ہوں،
کیونکہ میں ایک باپ ہوں۔
نیند میری چوری چوری چھپتی ہے،
رات میں بچوں کی ہلکی آہٹ سے ڈرتا ہوں۔
ہر قدم، ہر سانس، ہر ہلچل پر چوکس،
میں سویا ہوا بھی، جاگا ہوا بھی—
کیونکہ میں ایک باپ ہوں۔
میری آنکھوں کی نیند سے بڑھ کر ہے اُن کا کل،
میری تھکان سے بڑی ہے اُن کی مسکراہٹ۔
میں وہ سایہ ہوں،
جو اُن کی دنیا کی ہر دھوپ اور ہر سردی سے اُنہیں بچاتا ہے۔
میں ہوں—نہ تھکتا، نہ جھکتا ہوں،
کیونکہ میں ایک باپ ہوں۔
write by zishan alam
book lafzon ke mousam me