دشمن اپنے ہی نکلے، شکایت کس سے کرتے ہم
سانپ آستین میں تھے اور گھر سے باہر ڈھونڈتے رہے ہم
سانپوں کے زہر سے تو ایک بار بچا بھی جا سکتا ہے
ڈسا تو ہمیں آستین کے سانپوں نے، کیسے بچ جاتے ہم
سینے پر زخم لے کر مرہم کی تلاش میں نکلے تھے
ملاقات نمک سے ہوئی، اب زخم کیسے دکھاتے ہم
میرے زخم کوئی عام نہیں ہیں، نہ یہ زخم سرِ عام ہیں
زخم اندر کے ہیں یار، بھلا ان کی دوا کیسے لیتے ہم
تمہارے مطابق میں خاموش ہوں تو خاموش سمجھ لو
میرے اندر کتنا شور مچا ہے، تمہیں کیسے بتاتے ہم
اس دنیا کا نظام صرف یقین پر چل رہا ہے
اب یقین کس پر کریں اور کس پر نہ کرتے ہم
Written by Zishan Alam |
Book: Lafzon ke mousam me