آج وہ ہمیں جنگ کے کچھ آداب سکھاتے ہیں،
مگر ہم محبت میں نظر انداز کر جاتے ہیں۔
ہماری خاموشی کو ہماری ہار نہ سمجھا جائے،
ہم جنگ میں کبھی نہیں، محبت میں ہار جاتے ہیں۔
تم صرف جنگ اور جنگ پر سدا آمادہ رہتے ہو،
ہم تو محض محبت پر سدا مٹ جاتے ہیں۔
جنگ کے آداب ہمیں پتا ہیں، سب کچھ جائز ہے،
لیکن ہم محبت میں اپنا ہنر آزماتے ہیں۔
یہ کھیل تماشہ بالکل نہیں ہے، میدانِ جنگ ہے،
تم نیزے سے وار کرتے ہو، ہم لفظوں سے کرتے ہیں۔
تمہاری عادت ہے زخم پر نمک سے وار کرنے کی،
ہم لہو کی باتوں سے دل کے زخم مٹا دیتے ہیں۔
Write by zishan alam