لبوں پر تیرا نام رکھا ہے،
یا رب، تُو نے مجھے سنبھال رکھا ہے۔
شروع کرتا ہوں تیرا نام لے کر،
تُو نے مجھے ہر بلا سے بچا رکھا ہے۔
یا رب، تُو نے مجھے سنبھال رکھا ہے۔
تُو واحد ہے، تُو لا شریک ہے،
تیری شان ہے — جلّ جلالہُ۔
تُو عظیم ہے، تُو کریم ہے،
رحمان تُو، رحیم ہے۔
پھر بھی تُو نے مجھے میری اداؤں میں ڈھال رکھا ہے،
یا رب، تُو نے مجھے سنبھال رکھا ہے۔
گناہوں کا میرا ایک دریا ہے،
تُو نے اُس پر پردہ ڈال رکھا ہے،
اور مجھے اچھوں میں شامل کر رکھا ہے،
یا رب، تُو نے مجھے سنبھال رکھا ہے۔
تنکے سا وجود ہے میرا، میں تو
کب کا خاک ہو گیا ہوتا،
بس تیری رحمتوں نے مجھے پال رکھا ہے،
یا رب، تُو نے مجھے سنبھال رکھا ہے۔
Author zishan alam
book Lafzon ke mousam me



0 टिप्पणियाँ