میں زخم ہوں—
وہاں جا کر کس سے ملتا،
نمک سے بھیگے کپڑے
وہاں سب نے پہنے تھے۔
ہر چہرے پر ایک نقاب،
ہر زبان پر دھوکا،
ہر طرف خاموشی تھی،
اور دلوں میں بہت نفرت تھی۔
میں وہاں جا کر بھی اکیلا تھا،
کیونکہ ہر کوئی مجھ سے دور تھا۔
میں نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی،
مگر ہر دروازہ بند تھا۔
اُس بھیڑ میں بھی میں
ایک امید کی کرن ڈھونڈ رہا تھا—
کاش کسی کے دل میں میرے لیے
تھوڑی سی جگہ مل جائے،
یا میں کہیں دور،
کسی انجان راستے پر چلا جاؤں،
جہاں میرے دل کو
سکون مل جائے۔
Write by zishan alam
Book Lafzon ke mousam me